مالٹا کی43 سالہ رابرٹامیٹسولا یورپی پارلیمنٹ کی سب سے کم عمرصدرمنتخب

Spread the love

مالٹا سے تعلق رکھنے والی رابرٹا میٹسولا کو ان کی سالگرہ کے دن بڑا تحفہ مل گیا، یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں 705 میں سے 458 ووٹ لے کر سب سے کم عمر صدرمنتخب ہوگئیں، وہ گذشتہ 20سالوں میں پہلی خاتون ہیں جو اس عہدے تک پہنچی ہیں ۔

رابرٹا میٹسولا کا انتخاب یورپین پارلیمنٹ کے اسٹراسبرگ میں منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران عمل میں آیا، ان کا تعلق پارلیمنٹ کے یورپین پیپلز پارٹی گروپ سے ہے، وہ اگلے ڈھائی سال تک یورپی پارلیمنٹ کی صدارت کریں گی۔

تینتالیس سالہ رابرٹا پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور 2013میں پہلی بار یورپی پارلیمنٹ کی ممبر منتخب ہوئی تھیں، یورپی پارلیمنٹ کے سابق صدر ڈیوڈ سسولی کی بیماری کے باعث ہونے والی موت کے بعد رابرٹا کو صدر منتخب کیا گیا، ان کی زندگی میں وہ  پارلیمنٹ میں نائب صدر کے عہدے پر فائز تھیں۔

یورپی پارلیمنٹ کے صدر کے طور پر رابرٹا یورپی پارلیمنٹ کے اندرمباحثوں اور سرگرمیوں کی صدارت کریں گی، یورپی یونین کے اندراور بین الاقوامی سطح پر پارلیمنٹ کی نمائندگی بھی ان کے ذمے ہوگی جبکہ یورپی یونین کے بیشتر قوانین اور یورپی یونین کے بجٹ کو نافذ کرنے کے لیے ان کے دستخط کے بغیر کوئی کام عمل میں نہیں لایا جاسکے گا۔

 ایک طرف رابرٹا میٹسولا کے صدر بننے کی خبر سے زیادہ لوگوں کی دلچسپی ان کے  پانچ لاکھ آبادی والے  چھوٹے سے ملک مالٹا  سے تعلق ہونے میں ہے تو دوسری جانب نئی منتخب صدر کے  ماضی میں اسقاط حمل کے مخالف بیانات پر  میڈیا کی جانب سے تنقید کا نشانہ  بھی بنایا جا رہا ہے۔

مالٹا میں اسقاط حمل کروانے پر مکمل طور پر پابندی ہے اور رابرٹا ماضی میں اس کی حمایت  کر چکی ہیں، لیکن صدر بننے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ  اس معاملے میں ان کی پالیسی وہی ہے جو یورپی پارلیمنٹ کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔