سال 145 انسانی حقوق کے کارکنان کا قتل، کولمبیا انسانی حقوق کے محافظین کے لیے جہنم بن گیا

Foto: Luis Robayo / AFP
Spread the love

دنیا بھر کے 20سب سے زیادہ پرتشدد ممالک میں سے 17لاطینی امریکا میں واقع ہیں، اس فہرست میں کولمبیا پچھلے کئی سالوں سے پہلے نمبر پر موجود ہے، انسانی حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنان کے لیے کولمبیا اس سال بھی سب سے زیادہ خطرناک ملک ثابت ہوا ہے۔۔  پچھلے چند سالوں کے اعداد و شمار  دیکھے جائیں تو قتل ہونے والے کارکنان میں  سب سے زیادہ ماحولیات کے شعبے سے وابستہ ہیں، اور کولمبیا میں مقامی لوگوں کی زمین پر میگا پراجیکٹ شروع کرنے کے خلاف آواز بلند کرتے آئے ہیں، ایسے لوگوں کی آواز دبانے کے لیے  ان گروہوں کا کرائے کے قاتلوں کے طور  استعمال کیا جاتا ہے۔

کولمبیا میں میں سینکڑوں مسلح گروہ اس وقت متحرک ہیں ، رپورٹس کے مطابق کولمبیا میں 2000 سے زیادہ افراد ان پر مسلح گروہوں سے منسلک ہیں، یہ مسلح گروہ  نہ صرف غِیر قانونی منشیات کے اڈے چلاتے ہیں،  بلکہ اغوا برائے تاوان، کرائے کے قاتلوں کے طور بھی کام کرتے ہیں، اس سال زیادہ تر ہلاکتیں انہی علاقوں میں رپورٹ ہوئیں جہاں منشیات کے اسمگلر کام کرتے ہیں۔

 اقوام متحدہ کے مطابق کولمبیا میں 198سے اب تک 3500سے زائد انسانی حقوق کے محافظوں کو ان مسلح گروہوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے،  ان گروہوں کی کاروائِیاں صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ کولمبیا کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں ان گروہوں لوگوں کے آزادانہ گھومنے پھرنے پر کرفیو کے ذریعے پابندی لگائی ہوئی ہے، گروہوں کی آپسی لڑائِی اور طاقت کے مظا ہرے کے لیے مختلف گروہوں نے اپنے علاقوں میں بارودی سرنگیں بھی بچھا رکھی ہیں۔

کولمبیا میں مسلح گروہوں کے بڑھتے تشدد اور قتل عام میں اضافے کو روکنے کے لیے حکومت اور ملک کے سب سے بڑے گروہ ریولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا کے درمیان  2016میں امن معاہدہ کیا گیا تھا لیکن امن کے معاہدے کے بعد نئے گروہوں نے طاقت یہ لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے اور کولمبیا کی حکومت کی نااہلی بھی  ان واقعات میں مسلسل اضافے کا باعث ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔