بھارت دنیا بھر میں رسوا ہو گیا، مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر برطانیہ میں وزیر داخلہ امت شاہ اور بھارتی آرمی چیف کی گرفتاری کے لئے درخواست دائر

Spread the love

قانونی فرم کی رپورٹ 2020 اور 2021 کے درمیان لی گئی 2,000 سے زیادہ شہادتوں پر مبنی ہے۔ اس میں آٹھ نامعلوم سینئر بھارتی فوجی اہلکاروں پر کشمیر میں جنگی جرائم اور تشدد میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ "اس بات پر یقین کرنے کی پختہ وجوہات ہیں کہ ہندوستانی حکام جموں اور مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم اور دیگر تشدد کر رہے ہیں”

وادی کشمیر 30 سال سے سنگینوں کے سائے میں ہے
Spread the love

 

لندن میں قائم ایک قانونی فرم نے برطانوی پولیس کو ایک درخواست دائر کی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم میں مبینہ کردار پر ہندوستان کے آرمی چیف اور ہندوستانی حکومت کے وزیر داخلہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ لا فرم سٹوک وائٹ نے برطانوی پولیس کو 2,000 شہادتوں سمیت شواہد جمع کرائے ہیں جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کس طرح جنرل ایم ایم نروانے اور وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں غاصب فوجیں متنازع علاقے میں مبینہ جنگی جرائم اور تشدد میں براہ راست ملوث رہیں۔
سٹوک وائٹ کے مطابق فرم نے میٹروپولیٹن پولیس کے وار کرائمز یونٹ کو بیشمار ثبوت جمع کرائے ہیں جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ کس طرح جنرل منوج مکند نروانے اور وزیر داخلہ امت شاہ کی سربراہی میں بھارتی فوجی کارکنوں، صحافیوں اور شہریوں کے تشدد، اغوا اور قتل کے ذمہ دار تھے۔ قانونی فرم کی رپورٹ 2020 اور 2021 کے درمیان لی گئی 2,000 سے زیادہ شہادتوں پر مبنی ہے۔ اس میں آٹھ نامعلوم سینئر بھارتی فوجی اہلکاروں پر کشمیر میں جنگی جرائم اور تشدد میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ "اس بات پر یقین کرنے کی پختہ وجوہات ہیں کہ ہندوستانی حکام جموں اور مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم اور دیگر تشدد کر رہے ہیں"، رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے۔ لندن پولیس کو یہ درخواست "عالمی دائرہ اختیار" کے اصول کے تحت کی گئی تھی، جو ممالک کو دنیا میں کہیں بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار دیتا ہے۔
بھارت کے خلاف اس قسم کی پہلی قانونی کارروائی
سٹوک وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کشمیر میں مبینہ جنگی جرائم پر بھارتی حکام کے خلاف بیرون ملک قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
اسٹوک وائٹ کے بین الاقوامی قانون کے ڈائریکٹر ہاکان کاموز نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ رپورٹ برطانوی پولیس کو تحقیقات شروع کرنے اور بالآخر ان اہلکاروں کو گرفتار کرنے پر راضی کرے گی جب وہ برطانیہ میں قدم رکھیں گے۔ کچھ ہندوستانی عہدیداروں کے مالیاتی اثاثے اور برطانیہ سے دیگر روابط ہیں۔ 
کاموز کے مطابق "ہمارا برطانوی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے اور ان ثبوتوں کی روشنی میں تحقیقات کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا جائے جو ہم نے انہیں فراہم کیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کا احتساب کیا جائے۔" پولیس درخواست جیل میں قید ضیا مصطفیٰ کے اہل خانہ کی جانب سے دی گئی تھی جس کے بارے میں کاموز نے کہا تھا کہ وہ 2021 میں بھارتی حکام کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوا تھا، اور انسانی حقوق کے کارکن محمد احسن اونتو کی جانب سے، جنہیں گزشتہ ہفتے گرفتاری سے قبل مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ 
کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے، دونوں اس خطے پر مکمل دعویٰ کرتے ہیں۔ مسلمان کشمیری ان کی حمایت کرتے ہیں جو یا تو پاکستانی حکمرانی کے تحت یا ایک آزاد ملک کے طور پر خطے کو دوبارہ متحد کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ چار  دہائیوں کے دوران لاکھوں شہری شہید ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں اور بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں نے طویل عرصے سے بھارتی فوجیوں پر نئی دہلی سے حکمرانی کی مخالفت کرنے والوں کی منظم نسل کشی اور گرفتاریوں کا الزام لگایا ہے۔

‘خطرناک استثنیٰ’

2018 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کشمیر میں حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹوں کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے، "سیکورٹی فورسز کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے لیے خطرناک استثنیٰ" کا الزام لگایا تھا۔ بھارت نے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تردید کرتے ہوئے بیان داغا تھا کہ اس طرح کے دعوے خطے میں بھارتی فوجیوں کو بدنام کرنے کے لیے ہیں۔
قانونی فرم کی تحقیقات نے تجویز کیا کہ کورونا وائرس کے دوران اور ہندو قوم پرست رہنما نریندر مودی کے دور حکومت میں کشمیریوں کے ساتھ زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں گزشتہ سال بھارت کے انسداد دہشت گردی حکام کے ہاتھوں خطے کے سب سے ممتاز حقوق کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ 42 سالہ پرویز نے جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے لیے کام کیا، جس نے بھارتی فوجیوں کے تشدد اور تشدد کے بطور آلہ استعمال کے بارے میں وسیع رپورٹیں لکھیں۔ یہ گروپ مقبوضہ وادی میں ہزاروں اجتماعی لیکن گمنام قبروں کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے۔
رپورٹ میں صحافی سجاد گل کا بھی ذکر بطور خاص شامل ہے جنہیں اس ماہ کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں بھارتی فوج کی جانب سے مارے گئے ایک بے گناہ کشمیری کے قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کی ویڈیو پوسٹ کی تھی۔

مزید درخواستوں کا اندراج ممکن

انسانی حقوق کے وکلاء نے ان لوگوں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے عالمی دائرہ اختیار کے اصول کو تیزی سے استعمال کیا ہے جو اپنے آبائی ممالک میں یا دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مجرمانہ شکایات درج کرنے سے قاصر تھے۔ گزشتہ ہفتے جرمنی کی ایک عدالت نے شام کے ایک سابق خفیہ پولیس افسر کو ایک دہائی قبل دمشق کے قریب ایک جیل میں ہزاروں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی نگرانی کرنے پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا۔ کاموز نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ برطانوی پولیس سے ہندوستانی اہلکاروں کی گرفتاری کی درخواست کے بعد مقبوضہ کشمیر پر دیگر قانونی اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ آخری نہیں ہو گا، شاید اور بھی بہت سی درخواستیں دائر ہوں گی۔
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے رپورٹ پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ ہندوستانی وزارت داخلہ (جسکے وزیر امت شاہ خود ہیں) نے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ 

کشمیر پریس کلب اور حالیہ رپورٹ

اس رپورٹ کے سامنے آنے سے ایک دن پہلے ہی قابض بھارتی حکومت نے سرینگر میں موجود پریس کلب کو بھی ختم کر دیا۔  مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے کلب کی عمارت کا کنٹرول اس وقت لیا جب صحافیوں کے دو گروپ آپس میں لڑ پڑے اور فوج نے کلب پر قبضہ جمایا۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے منگل کو کشمیر پریس کلب کو بند کرنے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے میڈیا کی آزادی کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔ پولیس کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے منفی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے پریس کلب کی رجسٹریشن معطل کرنے کے ایک دن بعد حکومت نے عمارت پر قبضہ کر لیا۔ اس سے پہلے کشمیر پریس کلب نے اعلان کیا تھا کہ وہ 15 فروری کو ایک نئی انتظامیہ اور ایک ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل کے لیے انتخابات کرائے گی۔
ایڈیٹرز گلڈ انڈیا کے مطابق کشمیر پریس کلب 2018 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کے 300 سے زائد ممبران تھے، جسکے باعث یہ خطے میں صحافیوں کی بڑی ایسوسی ایشننز میں سے ایک تھا۔ کلب کے بند ہونے اور حکومت کی جانب سے زمین اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ کو واپس کرنے کے ساتھ، خطے میں ایک اہم صحافتی ادارہ کو (جس نے آزاد میڈیا کے خلاف بدترین قسم کی ریاستی تشدد دیکھا ہے) مؤثر طریقے سے ختم کر دیا گیا ہے۔" ایڈیٹرز گلڈ نے کہا کہ خطے میں میڈیا کی آزادی اور سول سوسائٹی کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ رائٹرز گلڈ نے سجاد گل، پیرزادہ عاشق، مسرت زہرہ، فہد شاہ اور رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کے قتل سمیت صحافیوں کی حراست کے کئی واقعات درج کئے۔ ایڈیٹرز گلڈ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کشمیر ٹائمز کے سری نگر کے دفتر کو پہلے اکتوبر 2020 اور پھر اپریل 2021 میں سیل کیا گیا تھا اور پولیس نے میڈیا کو عسکریت پسندوں کے ساتھ ہونے والی فائرنگ کی رپورٹنگ کرنے سے روکنے کے لیے ایڈوائزری جاری کی تھی۔ رائٹرز گلڈ کے مطابق "میڈیا کے خلاف اس طرح کی زیادتیوں سے دوچار ریاست میں، کشمیر پریس کلب صحافیوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والا ایک اہم ادارہ تھا۔"
رپورٹرز کے حقوق کے لئے سرگرم بین الاقوامی تنظیم (آر ایس ایف) نے بھی کشمیر پریس کلب کے خلاف بھارتی حکومت کی "بغاوت" کی مذمت کی ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے کشمیر پریس کلب کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ کشمیری صحافیوں نے کلب کو اپنے مسائل پر بات کرنے اور آزادی صحافت کے دفاع کے لیے استعمال کیا۔
آر ایس ایف کے ایشیا پیسیفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیل باسٹرڈ نے اپنے پیغام میں کہا "ہم جموں اور کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیر پریس کلب کا لائسنس فوری طور پر بحال کریں اور اسے دوبارہ کھولنے کا حکم دیں" ۔ "اس سوسائٹی کی بندش واضح طور پر مقامی حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پر کی گئی بغاوت کا نتیجہ ہے، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔ یہ غیر اعلانیہ بغاوت بھارتی حکومت کی ان تمام صحافیوں کی توہین ہے جو وادی کشمیر (جو مسلسل خبروں اور معلومات کے بلیک ہول میں تبدیل ہو رہی ہے۔) میں اپنا کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
کلب پر قبضہ کرنے والی قابض بھارتی فوج اور کٹھ پتلی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کلب انتخابات کا انعقاد کرانے میں ناکام رہا جو 19 جولائی 2021 کو ہونے تھے۔ لیکن حقیقت میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے اس اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے اس عمل کو روکے رکھا کیونکہ انتخابات کے لئے بنیادی شرط ایک سوسائٹی کے طور پر کلب کی دوبارہ رجسٹریشن تھی جسے انتظامیہ نے تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے الجھائے رکھا، کشمیر پریس کلب کے سبکدوش ہونے والے صدر شجاع الحق نے ایک بیان میں اس امر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کلب نے مئی 2021 میں اپنی درخواست جمع کرائی لیکن 29 دسمبر تک کوئی جواب نہیں ملا۔ 

10 thoughts on “بھارت دنیا بھر میں رسوا ہو گیا، مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر برطانیہ میں وزیر داخلہ امت شاہ اور بھارتی آرمی چیف کی گرفتاری کے لئے درخواست دائر

  1. штабелер электрический
    https://elektroshtabeler-kupit.ru

  2. подъемник ножничный передвижной
    http://www.nozhnichnyye-podyemniki-dlya-sklada.ru/

  3. телескопическая вышка
    https://podyemniki-machtovyye-teleskopicheskiye.ru

  4. вышка телескопическая
    https://podyemniki-machtovyye-teleskopicheskiye.ru

  5. подъемная платформа
    https://gidravlicheskiye-podyemnyye-stoly.ru

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔