امریکامیں یہودی عبادت گاہ میں 4 افراد کو یرغمال والا شخص ہلاک

Spread the love

امریکی ریاست ٹیکساس کی یہودی عبادت گاہ میں یرغمال بنائے گئے چاروں افراد کو سکیورٹی اداروں نے بازیاب کروا لیا، کارروائی کے دوران مسلح شخص ہلاک ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق عبادت کے دوران مسلح شخص یہودی معبد کی عمارت میں داخل ہوا اور دھمکی دے کر 4 افراد کو یرغمال بنا لیا، واقعے کے دوران معبد کی لائیو ٹرانسمیشن روک دی گئی تھی۔

ریاست ٹیکساس کے علاقے کولیویل کے پولیس چیف نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ جس شخص نے یہودیوں کی عبادت گاہ میں چار افراد کو یرغمال بنایا تھا وہ اب ہلاک ہو چکا ہے۔

ایف بی آئی نے مسلح شخص کی شناخت بتانے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ میں دہشت گردی کا خطرہ نہیں ، واقعے کے بعد نیویارک اور لاس اینجلس میں یہودی عبادت گاہوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔

امریکا کے سرکاری نشریاتی ادارے سی این این نے تفتیش کاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مشتبہ شخص ممکنہ طور پر عافیہ صدیقی کو  رہائی دینے کے خیالات رکھتا ہے۔

ٹیکساس کی رہائشی خاتون نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ وہ یہ دعائیہ نشریات براہ راست دیکھ رہی تھیں، ملزم نےکہا اس کے پاس بم ہے، جیسے جیسے ملزم کاغصہ بڑھتا جا رہا تھا، ساتھ ہی اس کی دھمکیاں بھی بڑھ رہی تھیں، ملزم نے کہا میں وہ شخص ہوں جس کے پاس بم ہے، تم نے غلطی کی تو ذمہ دارتم ہوں گے، یہ دھمکی دینےکے بعد ملزم ہنسا۔

امریکی ٹی وی کے مطابق ملزم کے پاس بم ہونے کے دعوے کی بھی پولیس نے تصدیق نہیں کی۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق معاملے پر صدر جو بائیڈن کو بریفنگ بھی دی گئی جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا، کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی جانب سے یہودیوں کی عبادت گاہ پر حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز  کے رہنما احمد مچل کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی عبادت گاہ پر حملہ ناقابل قبول برائی ہے، یہودی کمیونٹی کے ساتھ اظہار  یکجہتی کرتے ہیں، اس جرم کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ برینڈیز یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایڈوانس ڈگریوں کے حامل پاکستانی نیورو سائنسدان عافیہ صدیقی کو 2010 میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔