پہلی قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن کا اجراء

Spread the love

وزیراعظم عمران خان نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کےعوامی ورژن کا اجراء کر دیا ، وزیراعظم آفس میں تقریب ہوئی ، تقریب میں وفاقی وزراء ، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف ، ارکان پارلیمنٹ ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، تمام سروسز چیفس ، سینئر سول و فوجی حکام ، ماہرین ، تھنک ٹینکس ، میڈیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔

وزیراعظم عمر ان خان نے اپنے کلیدی خطاب میں اپنی حکومت کے قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کے کامیاب اقدام کو اجاگر کیا ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بڑی محنت سے قومی متفقہ دستاویزات تیار کی

، نیشنل سکیورٹی ڈویژن کو پالیسی بنانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پالیسی میں نیشنل سکیورٹی کو درست طریقے سے واضح کیا گیا ہے، ملک کو محفوظ بنانے پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہمارے پاس تربیت یافتہ فوج موجود ہے، کوشش ہے ریاست اور عوام ایک راستے پر چلیں ۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت کمزور ہوگی تو دفاع بھی کمزور ہوگا، مجبوری کی حالت میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑتی ہیں۔ آئی ایم ایف سب سے سستے قرض دیتا ہے۔ ہر فلاحی ریاست اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیتی ہے، ہماری ترجیح سب سے پہلے کمزور طبقے کو تحفظ دینا ہے، صحت کارڈ کے ذریعے ہم نے ہر خاندان کو تحفظ دیا، جن صوبوں میں ہماری حکومت ہے وہاں ہیلتھ انشورنس فراہم کر رہے ہیں، سوائے سندھ کے تمام صوبوں میں صحت کارڈ دیا جا رہا ہے، ماضی میں بینک گھر بنانے کیلئے عام آدمی کو قرض نہیں دیتا تھا۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ قومی سلامتی پالیسی 2022-2026کا محور حکومت کا وژن ہے جو کہ یقین رکھتی ہے کہ ملکی سلامتی کا انحصار شہریوں کی سلامتی میں مضمر ہے  ، کسی بھی قومی سلامتی پالیسی میں قومی ہم آہنگی اور لوگوں کی خوشحالی کو شامل کیا جانا چاہئے جبکہ بلاامتیاز بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کی ضمانت ہونی چاہئے ۔ قومی سلامتی کمیٹی باقاعدگی سے اس پر پیش رفت کا جائزہ لے گی ۔

انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کی وسیع صلاحیتوں سے استفادہ کے لئے خدمات پر مبنی اچھے نظم و نسق کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ ہماری مسلح افواج ، ہمارا فخر ہیں ۔ خطے میں ہمیں درپیش خطرات اور ہائبرڈ وار کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں انہیں ہماری طرف سے بڑی اہمیت اور حمایت حاصل رہے گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہماری خارجہ پالیسی کا بڑا مقصد خطے اور خطے سے باہر امن و استحکام رہے گا ، ہماری خارجہ پالیسی میں  جاری معاشی خارجہ پالیسی پر مزید توجہ مرکوز کی جائے گی ۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ قانون کی حکمرانی کی وجہ سے سیاحت سے بھاری زرمبادلہ حاصل کر رہا ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی کا وژن تفصیل سے بیان کیا، انہوں نے مسلسل  تعاون پر وزیراعظم عمران خان اور تمام حکام کا شکریہ ادا کیا ۔

مشیرقومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی  ہماری سلامتی پر اثر انداز ہونے والے روایتی اور غیر روایتی مسائل کے وسیع تناظر میں تشکیل دی گئی ہے ، قومی سلامتی پالیسی  میں معاشی سلامتی ، جیوسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل پہلوئوں کا محور ہے جس میں پاکستان کی سلامتی  کا استحکام اور دنیا میں مقام حاصل کرنا نمایاں خصوصیات ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس دستاویز کو  مکمل سول ملٹری اتفاق رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے، پاکستان کے تمام شعبوں کی بہت اچھی پالیسیاں ہیں اور اپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہیں، پاکستان کے تمام شعبوں کی بہت اچھی پالیسیاں ہیں اور اپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان کی تمام پالیسیاں عالمی معیار کی ہیں،پاکستان میں قومی سلامتی پر بہت بحث ہوئی، قومی سلامتی پالیسی کی تیاری میں تمام اداروں کی کاوشیں ہیں ، ضرورت تھی کہ پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کا اجراء کیا جائے ، ہم نے پوری دنیا کی پالیسیاں دیکھی ہیں ، ہر شہری کا تحفظ قومی سلامتی پالیسی کا حصہ ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔