قومی اسمبلی اجلاس میں منی بجٹ پاس ہونے کے بعد بھی اپوزیشن کی دھوئیں دھار تقریریں

Spread the love

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں منعقد ہوا نقظہ عتراض پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ کل اسمبلی میں 350 ارب کے نئے ٹیکسز عوام پر مسلط کیے گئے ہیں، نااہل حکومت نے مہنگائی آسمان پر پہنچا دی گئی، اسٹیٹ بنک گروی رکھ دیا گیا ، اپوزیشن احتجاج کا حکومت پرکوئی فرق نہیں پڑتا ہے ، اس اسمبلی کے ملازمین اور ایمپلائز کو اعزازیے کاوعدہ کیا گیا مگر نہیں ادا کیا گیا ،خدارا اسمبلی ملازمین کو اعزازیے پر یوٹرن نہ لیا جائے۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی ڈی اور ریڈیو کا اعزازیہ رہتا ہے وہ دے دیں گے جبکہ باقی کےدے دیے ہیں ، اپوزیشن کا نقطہ نظر ٹھیک طریقےسےسامنے آیا ،گزشتہ روزاپوزیشن نے احتجاج کیا اوران کا یہ حق ہے ، مجھے دکھ ہے جو آخری 15 منٹ میں ہواجس طرح اسپیکر چیئر کی بے حرمتی کی گئی ، اس طرح ہم سب کی عزت کم ہوتی ہے،اگر ہم میں سننے کا حوصلہ نہیں تو ہم حکومت نہیں ہیں ، ہم نے اگر اپنے لیڈر کی عزت کرانی ہو تو پھر دوسروں کے لیڈر کی بھی عزت کرنی ہے۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی اپوزیشن میں احتجاج کیا مگر ایسا نہ کیا، ہم نے اپوزیشن میں رہ کر کبھی لڑائی نہ کی ،اسپیکر پر کل کاغذ پھینکے جا رہے تھے ، سپیکر کی چیئر تو فنانس بل نہیں لا رہی تھی ، آپ میرے خلاف حکومت اور خان صاحب کے خلاف احتجاج کریں مگرسپیکر کرسی کا احترام کریں۔

سابق وفاقی وزیر و رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ کل حکومتی پارٹی کا جو قانون سازی پر رویہ تھا کیا وہ احترام کرانے کے لائق تھا ، یہ کرسی خود اپنا احترام نہیں کراتی، اس پر بیٹھنے والے احترام کراتے ہیں ، ہمارا رویہ اور آئین کا احترام جب تک ہم نہیں کریں گے کوئی فرشتے نہیں کرائیں گے ، آپ نے جو کل مثال قائم کی ، کم سے کم 32 سالہ دور میں، میں نے نہیں دیکھا ، آمریت کے دور میں بھی اسپیکر کی کرسی نے یہ رویہ نہیں اپنایا ، میں ذاتیات پر نہیں جانا چاہتا، آپ کے لوگ ڈیسکوں کے اوپر چڑھتےتھے ، آپ نے وعدہ کیا تھا 200 ارب لائیں گے ، 100 ڈالر اس کے منہ پر ماریں گے،  آپ نے اسٹیٹ بنک ہی آئی ایم ایف کے منہ پر مار دیا ، آپ کو آنے والی نسلیں یاد کریں گی کہ آپ نے وطن فروشی کی تھی۔آپ نےملک کی معاشی خود محتاری فروخت کی جب آپ اپنی کرسی کے احترام کا سودا کریں گے تو پھر وہی حال ہو گا جو بلوچستان کے عوام کا ہو گا، تاریخ آپ کو معاف نہیں کریں گی ۔

رکن اسمبلی نورعالم خان کا کہنا تھا کہ  ایوان میں پچھلی سیٹوں پر بیٹھے ارکان کا بھی بولنے کا حق ہے جو کچھ حالات بنے ہیں ، ایوان کی اگلی تین قطاریں ذمہ دار ہیں ، کیا میں پاکستانی نہیں ہوں ، کیا پشاور اس ملک کا ضلع نہیں ہے ، کیا میانوالی سوات صوابی ہی اس ملک کے ضلع ہیں ، پشاور میں 22،22گھنٹے بجلی جاتی ہے ، کیا میں صرف ووٹ دینے کے لئے ہی ہوں اس ایوان کی نشستوں کی اگلی3 قطاروں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔

مسلم لیگ ن ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ پہلے ہم نے دریا دے دیئے پھر کشمیر دے دیا ، اب اسٹیٹ بینک بھی دے دیا کل جو کچھ ہوا کیا قیامت آگئی تھی ، آج وزیر اعظم آفس کی طرف جاتی غیر منتخب لوگوں کی گاڑیوں کے کانوائے دیکھے، وزیر اعظم کا کیا پروٹوکول ہے ، یہ اس سے کہیں زیادہ تھا ، منتخب لوگوں کو گالیاں پڑتی ہیں ، اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ الیکشن لڑنے کو بھی دل نہیں کرتا رکن اسمبلی فہیم خان نے کہا کہ یہاں حکومت پر بڑی تنقید کی جارہی ہے ، سندھ کی بات کیوں نہیں کی جاتی ہے ، شاہ رخ جتوئی نامی قاتل کو کس طرح کا پروٹوکول دیا جارہا تھا ، سب کے سامنے ہے ، سندھ میں لاقانونیت کی حد ہوگئی ہے۔

رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا کی گیس پر بیان دیا ، ان کا بیان غلط تھا ،ہم 360 نہیں 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پروڈیوس کرتے ہیں 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہمارا صوبہ پروڈیوس کرتا ہے مگر 30 ڈالر پر آر ایل این جی گیس خریدی جا رہی ہے ، ہمیں مہنگی گیس دی جارہی ہے ۔ شیخ احمد قیصر کل ایک بہن نے حلف لیا ،، حلف میں یہ ہے کہ میں پاکستان کی خود مختاری اور خوشخالی کے لئے کام کروں گا ، یہ اسٹیٹ بنک کا جو بل پاس کیا ہے اس میں پاکستان کی خودمختاری کی بات نہیں رہ گئی ، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں 17 فیصد پاکستان کی کرنسی ڈی ویلیو ہوئی ہے ، پاکستان لوٹا جا رہا ہے ، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے قومی اسمبلی کااجلاس 17 جنوری شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔