قازقستان میں جاری بدامنی کا خاتمہ، اربوں ڈالر کا نقصان بیرونی جنجگوؤں کے ملوث ہونے کا انکشاف

Spread the love

قازقستان میں حالیہ پرتشدد عوامی مظاہروں اور بدامنی کے واقعات میں 164 افراد ہلاک اور 2 ہزار 200 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 8 ہزار افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے ملک میں جاری بدامنی کے خاتمے کا اعلان کرتےہوئے کہا کہ ملک میں پُرتشدد تاریخی واقعات میں وسطی ایشیا، افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے آئے ہوئے عسکریت پسند ملوث تھے۔

صدر قاسم جومارت توکایف نے الزام عائد کیا کہ عسکریت پسندوں نے اقتدار پر قبضے کی کوشش کی غرض سے افراتفری برپا کی۔

قازقستان میں اراکین پارلیمان نے علیخان سیملوف کو ملک کے نئے وزیر اعظم کو منتخب کر لیا ہے، ملکی صدر قاسم جومارت توکائیف پہلے ہی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے علیخان سمیلوف کا نام تجویز کر چکے تھے۔

قازقستان کے صدر نے اپنے روسی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا،گفتگو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ سابق سوویت ریاستوں کے فوجی اتحاد نے "دہشت گردوں، مجرموں، لٹیروں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر” کو قازقستان میں طاقت کی بنیاد کو کمزور کرنے سے روکا ہے اور کہا کہ اس کا مشن مکمل ہونے کے بعد اس کی فوجیں واپس بلا لی جائیں گی۔

انہوں نے کہاکہ "یقیناً، ہم سمجھتے ہیں کہ قازقستان میں ہونے والے واقعات ہماری ریاستوں کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی پہلی اور آخری کوشش نہیں ہیں،سی ٹی ایس او کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات نے واضح طور پر ظاہر کیا ہے کہ ہم گھر میں صورتحال کو ہلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ولادی میر پیوتن کا کہنا تھا کہ سی ٹی ایس او "رنگین انقلابات” ہونے کی اجازت نہیں دے گا، یہ سابق سوویت ممالک میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کئی مقبول انقلابات کا حوالہ ہے، بشمول یوکرین اور جارجیا۔

رپورٹ کے مطابق صدر قاسم جومارت توکایف نے یورپی کونسل کے صدر چارلز مچل سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں کہا کہ بلاشبہ یہ دہشت گردانہ حملہ تھا۔

یورپی کونسل کے صدر چارلز مچل کے ساتھ گفتگو میں صدر قاسم جومارت توکایف نے مظاہروں کے دوران ہونے والے معاشی نقصان کا تخمینہ دو سے تین ارب ڈالر کے درمیان لگایا ہے۔

قازقستان کے صدر کی درخواست پر اجتماعی سکیورٹی کی تنظیم (سی ایس ٹی او) نے قزاقستان میں فوجیوں کی تعیناتی سمیت ملٹری سازو سامان بھی پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے یورپی کونسل کے صدر کو بتایا کہ سی ایس ٹی او کے فوجی دستے قزاقستان میں صرف سٹراٹیجک تنصیبات کی حفاظت پر مامور ہیں جو حالات کے مکمل مستحکم ہونے تک قزاقستان میں ہی موجود رہیں گے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے قازقستان کی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے ملک میں امن کی بحالی کے لیے حکام کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزرا نے بیرونی طاقتوں کی مداخلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

بیان کے مطابق دونوں وزراء نے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں، سرکاری اداروں اور دیگر سہولیات پر قبضے میں غیر ملکیوں کے ملوث ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

تیل کی دولت سے مالامال ایک کروڑ 90لاکھ آبادی کے ملک کو ان پرتشدد واقعات نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نئے سال کے موقع پر مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافے پر پرُتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے ، ملک میں زیادہ تر گاڑیوں میں ایل پی جی ہی استعمال ہوتی ہے۔

قازقستان میں حالیہ پرتشدد عوامی مظاہروں اور بدامنی کے واقعات میں ملکی وزارت صحت کے مطابق 164افراد ہلاک اور 2 ہزار 200 سے زائد زخمی ہوئے ، 103 افراد قازقستان کے اہم شہر الماتی میں مارے گئے جو ان فسادات کا مرکز ہے ۔

وزارت داخلہ کے مطابق مظاہروں کی آڑ میں 100 سے زیادہ کاروبار اور بینکس پر حملہ کر کے لوٹا گیا ، 400 کے قریب گاڑیوں کو تباہ کیا گیا۔

وزیرداخلہ ارلان ترگمبایوف نے کہا کہ صورتحال مستحکم ہے تاہم ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انسداد دہشت گردی کا آپریشن جاری ہے، مجموعی طور پرتقریبا 8 ہزارافراد کو بد امنی سمیت مختلف مقدمات میں پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔

دریں اثناء صدر قاسم جومرد توکائیف کی درخواست پر روس کی زیر قیادت بننے والی اتحادی فوج کو امن بحال کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

قازقستان روس کا قریبی اتحادی ہے اور روس نے امید ظاہر کی ہے کہ قازقستان اپنے داخلی مسائل جلد حل کر لے گا تاہم انہوں نے دیگر ممالک کو خبردار کیا کہ وہ قازقستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

قازقستان بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ سے نمٹ رہا ہے، افراط زر کی شرح سال ہا سال بنیادوں پر 9فیصد رہی جو گزشتہ پانچ سال کے دوران بلند ترین سطح ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔