مری میں برف کا طوفان، 22 سیاح جاں بحق،پاک فوج کا ریلیف آپریشن، سینکڑوں کو ریسکیو کر لیا

Spread the love

مری میں شدید برف باری اور رش میں پھنس کر 22 سیاح جاں بحق ہو گئے ، متاثرہ افراد اپنے موبائل فون سے کال کر کے انتظامیہ کو مدد کے لیے پکارتے رہے لیکن انتظامیہ متاثرہ افراد تک نہیں پہنچی، لوگ 20 گھنٹے تک آسمان سے گرتی برف میں پھنسے رہے ،گاڑیاں دھنس گئيں۔

گاڑیوں میں پناہ لیے بے بس افراد کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ گاڑی بند کرکے حکومتی امداد کا انتظار کریں ، جب تک انتظامیہ پہنچی اُس وقت تک درجنوں افراد موت کی آغوش میں چلے گئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی سمیت ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

مری میں شدید برفباری کے باعث گاڑی میں جاں بحق ہونے والوں میں اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں تعینات اے آئی ایس نوید اور ان کے اہلخانہ کے دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

اے ایس آئی نوید بچوں کو  برفباری دکھانے کے لیے چھٹی لے کر اپنی فیملی کے ساتھ مری گئے تھے لیکن گاڑی میں پھنس کر اہلخانہ کے دیگر 7 افراد کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے۔

ایک گاڑی میں 4 دوستوں نے جان دے دی ، ریکسیو اہلکاروں نے گاڑیوں کے دروازے کھولے تو اندر لوگوں کی لاشیں ملیں، مری میں سیر و تفریح کے لیے آنے والے4 دوستوں نے برف پر سیلفی بھی لی تھی جو کہ ان کی زندگی کی آخری سیلفی ثابت ہوئی.

سیلفی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین گہرے دکھ اور غم کا اظہار کر رہے ہیں۔

واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے ، ہر آنکھ اشکبار ہے جبکہ لوگ انتظامیہ کی غفلت اور نااہلی پر شدید غم و غصے کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔

پاک فوج کے جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مری اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پانچ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جبکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا عمل جاری ہے۔

برف میں پھنسی ہوئی تمام  گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی ہے، ان گاڑیوں میں سوار تمام افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا، فوجی انجینئرز کے دستے اور ڈوزر اس وقت  جھیکا گلی روڈ کلڈنہ روڈ  باڑیاں پر برف ہٹانے اور روڈ کو کلئیر کرنے  کے لیے کام کر رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی جانب سے مری میں پھنسے سیاحوں کو کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں ۔

وزیراعظم عمران خان نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سانحہ مری کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور کہا کہ لوگ بغیر موسم کا تعین کیے بڑی تعداد میں مری پہنچ گئے، غیر معمولی برفباری اور بڑی تعداد میں لوگوں کے سیاحتی مقامات کا رخ کرنا سانحہ مری کا باعث بنا۔

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کی مری میں امدادی کاموں کی مانیٹرنگ

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید مری اور گلیات میں پھنسے سیاحوں کی امداد کی مانیٹرنگ کے لئے مری پہنچے،

وفاقی وزیرداخلہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاک فوج کے 5 پیدل پلاٹون طلب کئے گئے ہیں، سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، ایف سی اور رینجرز کو بھی امدادی سرگرمیوں کیلئے طلب کر لیا گیا ہے۔

حکومت کی سیاحوں سے مری اور بالائی علاقوں کو نہ جانے کی اپیل

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ لاکھوں گاڑیاں مری اور دیگر بالائی علاقوں کی جانب جا رہی ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سہولیات پہنچانا ناممکن ہے، جن لوگوں نے بالائی علاقوں کی سیر کا پلان بنایا ہے ان سے درخواست ہے کہ اپنے پلان کچھ روز کے لیے مؤخر کر دیں۔

مری کی صورت حال کو مانیٹر کرنے کے لیے قائم کنٹرول روم کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شہر میں ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں اور لوگ گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کرکے چلے گئے ، مری میں رات سے بجلی کی فراہمی بند ہونے کے باعث گاڑیاں سڑکوں پر ہونےکی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ہیوی مشینری سے برف کی کٹائی کا عمل جاری ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مری میں برفانی طوفان کے باعث اب تک 22 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، کلڈنہ کےمقام پر سرچ آپریشن جاری ہے مگر شدید مشکلات ہیں، سڑکوں پربرف کے باعث ریسکیو 1122 کا عملہ پیدل چل کرسرچ آپریشن کر رہا ہے، سڑکوں پر بہت زیادہ برف ہے جس سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات ہیں۔

ترجمان پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مری کی 90 فیصد سڑکیں کلیئرکرا لی گئی ہیں، گاڑیوں سے بچوں اور فیملیز کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ترجمان کےمطابق شہریوں کو خوراک، ادویات،گرم کپڑے فراہم کیے جارہے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ کل شام تک ایک لاکھ 23 ہزار 920 گاڑیاں مری سے نکلیں، کل تک مری میں 33 ہزار 745 گاڑیاں موجود تھیں، 33ہزار 373 گاڑیوں کو ریسکیو کرکے نکالا جا چکا ہے۔

مری جانے والے تمام راستے بند

وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت ہو گی، پیدل جانے والوں کے لیے بھی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری دفاتر اور ریسٹ ہاؤسز عوام کیلئے کھول دیے گئے

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کی صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام اور پی ڈی ایم اے کو طلب کر لیا ہے اور سرکاری دفاتر اور ریسٹ ہاؤسز کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

مری میں 32 انچ تک برف پڑ چکی، محکمہ موسمیات

محکمہ موسمیات کے مطابق مری میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 17 انچ تک برف پڑ چکی ہے اور 3 جنوری سے اب تک 32 انچ برفباری ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ مری میں 94 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی  اور مری میں آج بھی پہاڑوں پر برفباری اور  بارش کا سلسلہ جاری رہنےکا امکان ہے، مری میں کل دوپہر تک برفباری کا سلسلہ تھم جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ مری میں  برفباری شروع ہوتے ہی ہزاروں سیاح  سیاحتی مقام کی سیر کو پہنچ گئے تھے لیکن شدید برفباری کے باعث سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور خواتین اور بچوں سمیت سیاحوں کی بڑی تعداد نے رات خون جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے گاڑیوں میں ہی گزاری اور یہی اموات کی وجہ بنا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔