فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم فورم سیاست کی نظر ہو گیا،وفاقی وزیرانسانی حقوق شیری مزاری

Spread the love

وفاقی وزیرانسانی حقوق شیری مزاری کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے کئی ممالک میں موجود کرپشن کے اثاثوں، کرپٹ عناصر کی بیغکنی کے لیے کچھ نہیں کیا ، فیفٹ نے منی لانڈرنگ سے توجہ ہٹا کر دہشت گردی کی مالی معاونت پر مرکوز کر لی ، غیرقانونی مالی وسائل اور منی لانڈرنگ پر توجہ مرکوز نہیں کی، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم فورم سیاست کی نظر ہو گیا ہے۔

اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن کے انسداد کرپشن، تحفظ انسانی حقوق پر ساتواں بین الاقوامی سیمینار کرتے ہوئے کہا کہ شیری مزاری نے کہا کہ برطانیہ میں انسداد منی لانڈرنگ کا سخت قانون ہونے کے باوجود کرپٹ لوگوں کو تحفظ دیا جاتا ہے ، برطانیہ اپنے قانون پر عملدرآمد نہیں کر رہا، کرپشن کا مال واپس نہیں کیا جاتا ۔

وفاقی وزیرانسانی حقوق کا کہنا تھا کہ امیر ممالک میں ترقی پذیر ممالک کی کرپشن زدہ اور جمع شدہ دولت واپس کرنے پر رضا مند نہیں، کرپشن معاشروں اور انسانی حقوق کے لیے کلیدی خطرہ ہے ، کرپشن ترقی کے سفر اور انسانی حقوق کے تحفظ، بروقت فراہمی میں رکاوٹ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم سے ترقی پذیر ممالک کو شدید خطرات لاحق ہیں ، پنڈورا پیپرز نے کرپٹ عناصر کو بے نقاب کیا،کرپشن، معاشرے کی بہتری، ترقی، صحت، تعلیم، روزگار کی فراہمی اور انصاف تک رسائی میں مشکلات کا باعث ہے،حکومتوں کو صحت، تعلیم اور انصاف کی بروقت فراہمی میں کرپشن کے باعث چیلنجز کا سامنا ہے۔

شیری مزاری نے کہا کہ پاکستان، جنوبی ایشیاء میں پہلا ملک ہے جس نے کاروبار اور انسانی حقوق پر نیشنل ایکشن پلان دیا، نیشنل ایکشن پلان میں مالیاتی شفافیت، صاف ستھرے کاروبار، تحفظ انسانی حقوق کو ترویج دیتا ہے،کرپشن کی تحقیق، رپورٹ کرنے والوں یا استغاثہ کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔