پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ فریقین کو دینے کی ہدایت

Election Commission Of Pakistan
Spread the love

الیکشن کمیشن پاکستان میں پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے کی۔
درخواست گزار اکبر ایس بابر ، پی ٹی آئی کے اسد عمر ، عامر کیانی ، وکیل شاہ خاور الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے قائم سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آ گئی ہے ۔
اکبر ایس بابر کے وکیل نےاستدعا کی جب سکروٹنی کمیٹی کے بعد ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس آئے گا تو ہمیں فراہم کی جائے، وکیل شاہ خاور نے مؤقف اپنایا یہ رپورٹ صرف فریقین کےلیے ہے، رپورٹ فریقین کو دے دی جائے، ہم اپنے کمنٹ دے دیں ، اس رپورٹ کو اس وقت تک پبلک نہ کیا جائے۔

ممبر الیکشن کمیشن نے واضح کیا یہ تو ان کیمرا نہیں ہے وکیل شاہ خاور بولےہم وضاحت جمع کرا دیں گے ، اس کے بعد بے شک الیکشن کمیشن اس رپورٹ کو اوپن کر دے لیکن اس وقت تک خفیہ رکھا جائے۔

وکیل شاہ خاورنےکہادیگر جماعتوں کے اکاونٹس کی سکروٹنی کا عمل مکمل ہو جانےدیں اس کے بعد سب کو اکھٹے دیکھیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ سب رپورٹس کو کیسے اکھٹا کر سکتے ہیں،رپورٹ کی کاپیاں تمام فریقین کو فراہم کریں۔

وکیل اکبر ایس بابر نے شکوہ کیا جو ڈیٹا اور اکانوٹس الیکشن کمیشن نے خود حاصل کیے وہ بھی ہمیں نہیں بتائے گئے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس کہا کہ کمیشن آرڈر پاس کرنے کی پوزیشن میں نہیں کہ وہ کہے کہ فریقین رپورٹ کو پبلک کریں یا نہیں۔

وکیل اکبر ایس بابر نے کہا ہر کیس میں سب چیزیں پبلک ہوتی ہیں ، جوابا وکیل تحریک انصاف کہا کہ الیکشن کمیشن آرڈر کر دے کہ فریقین سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک نہ کرے جس پر ممبر الیکشن کمیشن نے واضح کیا اوپن کورٹ میں ہم کیسے پابندی لگا سکتےہیں کہ رپورٹ کو پبلک نہ کیا جائے۔

وکیل پی ٹی آئی نے موقف اپنایا کہ دیگر جماعتوں کی اسکروٹنی بھی چل رہی ہے، باقی پارٹیوں کی رپورٹ آ جائے تو ایک ساتھ ہی کیس سنا جائے، دونوں فریقین کے جواب آنے تک رپورٹ خفیہ رکھی جائے۔ وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ پہلے دن سے کہتے ہیں کہ رپورٹ پبلک کی جائے، اسکروٹنی کمیٹی کی بہت سی معلومات سے لاعلم ہیں ، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ کسی کو کیسے روکیں گے کہ رپورٹ پبلک نہ کی جائے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا ہم کسی فریق کو رپورٹ پبلک کرنے سے روک سکتے ہیں ؟ الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ فریقین کو دینے کی ہدایت کر دی، چیف الیکشن کمشنر نے کیس کی سماعت 15 روز کیلئے ملتوی کر دی۔

پاکستان تحریک انصاف کےخلاف اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے اہم انکشافات

تحریک انصاف کے کے خلاف اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں اہم نکات سامنے آ گئے ہیں،بیرون ملک سے فنڈز کی تفصیلات رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے ، اسٹیٹ بنک کی جانب سے پی ٹی آئی کے بینک اکاونٹس کی تفصیلات، امریکی ادارے فارا ایل ایل سی کی پی ٹی آئی اکاونٹس سے متعلق تفصیل اورپاکستان میں ڈالر آپریٹڈ اکاونٹس کی تفصیل ہے۔

ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق بھارتی، فرانسیسی، اور آسٹریلوی قوانین کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ، تحریک انصاف کے 2008 سے 2013 کے آڈٹ کی تفصیلات ،بینک اکانٹس پر اپنا تجزیہ بھی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کا حصہ ہے۔

وفاقی وزراء اسدعمر اور فرخ حبیب کی میڈیا سے گفتگو

وفاقی وزیر اسد عمر نےفرخ حبیب اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ الیکشن کمیشن آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کیس کو شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے چلایا جائے، کیس کے ملک کی سیاست پر مثبت اثرات ہوسکتے ہیں، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے لئے بھی اسکروٹنی کمیٹیاں بن چکی ہیں، دونوں کی اسکروٹنی کمیٹیوں سے رپورٹ طلب کی جائے، سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ پر بڑے بڑے لیڈرز نے الزامات لگائے، بینظیر بھٹو نے بھی یہی الزامات لگائے تھے، عمران خان شفاف طریقے سے شوکت خانم کے لئے پیسہ اکٹھا کرتے رہے،تحریک انصاف نے شفاف طریقے سے فنڈز اکٹھے، الیکشن کمیشن تاریخی کام کر رہا ہے،۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے لئے سکروٹنی کمیٹیاں بن چکی ہیں، دونوں بڑی پارٹیوں کے خفیہ اکاؤنٹس نکل رہے ہیں،فنڈنگ کی رپورٹس عوام کے سامنے رکھی جائیں الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون کیا اور آگے بھی کرنے کو تیار ہیں۔

اگر اس کیس کا فیصلہ نہ کیا گیا تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا،اکبرایس بابر

اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی 29 ماہ بعد ناکام ہو جائے تو کیا اس کا قائم رہنا بنتا ہے ؟ الیکشن کمیشن کے تابع اور اس کی عزت کرتے ہیں، الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا، اسکروٹنی کمیٹی سے درخواست ہے ہمیں تفصیلات دکھائی جائیں، پی ٹی آئی کے 6 بین الاقوامی اکاؤنٹس کی نشاندہی کی، نشاندہی کے باوجود کسی ایک اکاؤنٹ کو سامنے نہیں لایا گیا، فارن فنڈنگ کیس پاکستان کی بقا کا کیس ہے، 28 بینک اکاؤنٹس ہم سے چھپائے گئے، فارن فنڈنگ کیس میں 7 سال لگ گئے، پہلے ہی بہت دیر ہوچکی، اب کیس کا فیصلہ ہونا چاہیئے، اگر اس کیس کا فیصلہ نہ کیا گیا تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

تحریک انصاف کی چوری اسٹیٹ بنک کے ذریعے پکڑی گئی،احسن اقبال

مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن میں پاکستان کی جمہوری تاریخ کا اہم ترین مقدمہ زیر سماعت ہے ، عمران خان اورپی ٹی آئی نے ایمانداری کا میک اپ لگا رکھا ہے جوفارن فنڈنگ کیس نے اتاردیا،تحریک انصاف نے درخواست دی کہ رپورٹ پبلک نہ کی جائے، تحریک انصاف کو کس چیز کا خوف ہے، ان کی درخواست ایف آئی آرکے مترادف ہے،یہ بھی انکشاف کیا کہ تحریک انصاف نے 2 درجن سے زائد اکاؤنٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جب حکومت سنبھالی تو ایک لاکھ ٹیکس دیتے تھے اس بارایک کروڑ روپے ٹیکس دیا ہے، عمران خان کی آمدنی میں ایک ہزارفیصد اضافہ کیسے ہوا ، عمران خان مسٹر کلین بنے پھرتے ہیں، اگروہ مسٹرکلین ہیں توتوشہ خانے کی تفصیلات جمع کیوں نہیں کراتے، عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے کون مین ثابت ہوئے ہیں انہوں نے تمام مافیاز کوپالا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔