دس ارب ہرجانے کا کیس، خواجہ آصف کی درخواست پرحکم امتناع جاری، وزیراعظم عمران خان کو نوٹس

pm imran khan facebook image
Spread the love

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے کیس کی سماعت کی ، خواجہ آصف کی جانب سے ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کی قانونی حیثیت کو گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ،درخواست میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور وزیر اعظم عمران خان کو فریق بنایا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سیشن جج کو آئندہ سماعت تک کارروائی سے روک دیا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

خواجہ آصف کی جانب سے شوکت خانم میمورئیل ٹرسٹ کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزام کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔

خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ 15جنوری2012 کو عمران خان نے ہتک عزت ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا، اس وقت خواجہ آصف لاہور میں قومی احتساب بیورو کی تحویل میں تھا اور اپنے وکیل کو ہدایات دینے سے قاصر رہا ، خواجہ آصف کو 29 دسمبر 20 کو گرفتار کیا گیا اور 23 جون 21 تک قید رکھا گیا، خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ سیشن جج نے خواجہ آصف کے وکیل کی عدم پیروی پر ایک طرفہ کارروائی کا فیصلہ کیا،سیشن جج کا حکم غیر قانونی غیر پائیدار اور ریکارڈ کو نہ پڑھنے پر مبنی حکم ہے ، سیشن جج نے غیر قانونی حکم جاری کرتے ہوئے قانون اختیار کے بغیر کام کیا۔

خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ غیر قانونی حکم سی پی سی میں طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاس کیا گیا ہے،خواجہ آصف مسلم لیگ ن کا پارلیمانی لیڈر ہے جو کہ ایک سرکردہ اپوزیشن جماعت ہے جبکہ مدعا علیہ عمران خان اس وقت ملک کے موجودہ چیف ایگزیکٹو ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ صرف انصاف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا بھی دیکھا جانا چاہیے،عدالت سے استدعا کی گئی کہ ماتحت عدالت کے حکم نامے کو غیرقانونی قرار دیا جائے ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ  یہ معاملہ سیشن جج کے پاس کب سے التوا ہے،درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ 2012سے یہ معاملہ التوا کا شکار ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیس التوا کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ خواجہ آصف اور عمران خان دونوں کے وکلاء ذمہ دار ہیں،استدعا بھی کہ 17دسمبر2021 کو سیشن جج کے حکم کو عدالت معطل کر دے، عدالت نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سیشن جج کو فیصلے سے روک دیا اور وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 12 جنوری تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔