سوڈان کے وزیر اعظم پھر مستعفی

Spread the love

سرکاری ٹیلی وژن پر عوام سے خطاب میں وزیراعظم نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوڈان کو المیے میں گرنے سے بچانے کی کوشش کی۔” سوڈان میں بڑا بحران سیاسی بحران ہے، عوامی انقلاب اپنے مقصد کی سمت گامزن ہے اور فتح حتمی امر ہے۔ دو سال سے زیادہ عرصے تک اپنے وطن کی خدمت کا شرف حاصل کیا”

Spread the love

سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے ایک بار پھر اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ فیصلہ ملک میں کئی ماہ سے جاری عوامی احتجاج کے پیش نظر کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی وژن پر عوام سے خطاب میں وزیراعظم نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوڈان کو المیے میں گرنے سے بچانے کی کوشش کی۔” سوڈان میں بڑا بحران سیاسی بحران ہے، عوامی انقلاب اپنے مقصد کی سمت گامزن ہے اور فتح حتمی امر ہے۔ دو سال سے زیادہ عرصے تک اپنے وطن کی خدمت کا شرف حاصل کیا”۔

عبداللہ حمدوک بولے سوڈان میں وسائل کی کمی نہیں اور اسے عطیات پر زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ مسلح افواج ہی عوام کی طاقت ہیں جو ان کے امن اور ملک کی اراضی کی خود مختاری کا تحفظ کرتی ہیں۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ نومبر میں طے پانے والا سیاسی معاہدہ تمام فریقوں کو بات چیت کی میز پر لانے کی ایک کوشش تھی۔ ان کے مطابق عبوری حکومت کو بین الاقوامی تنہائی اور قرضوں جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا رہا۔ وزیراعظم عبداللہ ہمدوک کو اکتوبر میں گرفتار کیا گیا تھا، بعد از احتجاج 21 نومبر کو انہیں دوبارہ وزرات عظمیٰ دی گئی تھی۔ وزیر اعظم حمدوک کا اپنے منصب سے استعفی گزشتہ برس اکتوبر سے جاری عوامی احتجاج کے کئی ماہ گزرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دوران مظاہرین نے مسلح افواج کی جانب سے مسلط اقدامات کو یکسر مسترد کیا۔ فوج نے زمام اقتدار سنبھال کر حکومت اور خود مختار کونسل کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔ 21 نومبر کو مسلح افواج اور وزیر اعظم حمدوک کے مابین ہونے والے نئے معاہدے کو بھی عوامی غضب کا سامنا رہا۔ نئے معاہدے کے تحت عسکری طاقت کو اقتدار میں بطور جزو قبول کیا گیا۔ فوجی بغاوت کے بعد ہفتوں فوج کے زیر حراست رہنے والے سوڈانی وزیراعظم شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کرنے  کے بعد ہی وزارت عظمی کے منصب پر بحال ہوئے تھے۔ لیکن عوام نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا جس کے باعث سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا پڑا اور کئی مظاہرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بالآخر عوام احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے عبداللّٰہ حمدوک نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ یاد رہے 25 اکتوبر 2020 کو فوجی جنرل عبدالفتاح البرہان نے سوڈان کی حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تھا لیکن عوام نے اس کے خلاف مظاہرے شروع کر دئیے تھے، جمہوریت نواز جنرل برہان کے جمہوریت کے وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھے ان کا کہنا تھا جنرل برہان کی موجودگی میں ملک کبھی حقیقی جمہوریت کی جانب نہیں بڑھ سکتا۔ دو ماہ کے دوران اب تک کریک ڈائون اور ریاستی تشدد کے باعث 57 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عبداللہ حمدوک کی21 نومبر کو بحالی جس معاہدے کے تحت ہوئی اس میں جولائی 2023 میں عام انتخابات کا وعدہ بھی شامل تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل فوج سابق سوڈانی حکمران بشیرالعمروالا نظام بحال کرنے کے لئے کوشاں ہے اس لئے نیا  آنے والا وزیراعظم بھی فوج کا حمایت یافتہ شخص ہو گا۔ 30 سال سے زائد عرصے تک سوڈان پر حکمرانی کرنے والے بشیر العمر کو بھی عوامی احتجاج کے باعث اپریل 2019 میں مستعفی ہونا پڑا تھا۔

88 thoughts on “سوڈان کے وزیر اعظم پھر مستعفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔