نومبر سے دسمبر2021 تک ملک میں مہنگائی نہیں بڑھی، ترجمان وزارت خزانہ کا دعویٰ

muzammil aslam (screen short)
Spread the love

ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ نومبر سے دسمبر تک ملک میں کوئی مہنگائی نہیں بڑھی اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں،2021 کی ابتدا کورونا سے ہوئی تھی اور ہم نے شرح نمو کا ہدف 2.1 فیصد رکھا تھا، گذشتہ سال میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو 4 فیصد رہی، رواں مالی سال پاکستان کی معاشی جی ڈی پی نمو 5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

ترجمان وزارت خزانہ نے کہا پچھلے سال 29 ارب ڈالر کی ترسیلات تھیں رواں سال اسے 32 ارب ڈالر پر لے جائیں گے، 2023 میں ہم ترسیلات زر کو 38 ارب ڈالر پر چھوڑ کر جائیں گے۔
کراچی میں پریس کانفرنس میں مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ 2018 میں پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہوگئے تھے، اس وقت حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر کو نیچے نہیں جانے دیا، اتنے بڑے معاشی جھٹکے کے باوجود ملک کی معیشت بہتر ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیز نے کسی بھی طرح پاکستان کی ریٹنگ کم نہیں کی۔

ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ منی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آنے کا شور مچایا جارہا ہے، فنانس سپلمنٹری بل میں غریب عوام پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا ، آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے کا ٹیکس عائد کرنے کا کہا تھا لیکن ہم 350 ارب روپے پر لائے، ہم نے مشینوں کی درآمد پر ٹیکس لگایا ہے جو ریفنڈ ہوگا۔

وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے ڈبل روٹی پر ٹیکس لگ گیا ہے، بہت سی بڑی بیکریاں انڈے اور ڈبل روٹی کے علاوہ پیزا اور دیگر مہنگی اشیا فروخت کررہی ہیں، ان بڑی بیکریوں پر پوائنٹس آف سیل لگا کر اس کی فروخت کا بھی جانچ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے 6 ماہ میں 2920 ارب روپے اکھٹے کئے ہیں، 74 برسوں سے جو ٹیکس مرعات سے فائدہ اٹھا رہے تھے ان پر ٹیکس عائد کیا ہے، ملک میں 12 ہزار ارب روپے کی ریٹیلر سیل ہوتی ہے لیکن 3 ہزار روپے ظاہر کئے جاتے ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ اس وقت ملک بھر کی ایک لاکھ 57 ہزار کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں ان میں سے 44 کمپنیاں صرف 3 سال میں رجسٹرڈ ہوئی۔ ملک کی 100 بڑی کمپنیوں نے پورے سال میں 930 ارب روپے کمائے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک میں مہنگائی ہے، دسمبر میں مہنگائی کی شرح 12.3 فیصد رہی، عالمی مارکیٹ میں اچانک خام تیل کی قیمت بڑھنے سے برا اثر پڑا ہے ،2021 میں زرعی شعبے نے بھی بہتر کارکردگی دکھائی ، 2022 میں گنے کی بہت ہی اچھی فصل رہنے کی توقع ہے، 2022 میں چینی درآمد نہیں کرنا پڑے گی۔

وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمت بڑھی ہے، پاکستان میں اب اجناس کی قیمت میں استحکام آنا شروع ہوجائے گا، آلو ، پیاز اور ٹماٹر کی قیمت کم ہوئی ہے

مزمل اسلم کی جانب سے پیش کیے گئے اعدادوشمار پر صحافیوں نے سوال اُٹھائے تو وہ غصے میں آ گئے، صاف کہہ دیا کہ میری بات نہیں کاٹیں،پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان ہے، ایسی مہنگائی 2008 میں بھی دیکھی گئی تھی ، پچھلے 6 ماہ میں جتنی مہنگائی ہوئی اس کا جائزہ لینا ہوگا۔

ترجمان وزارت خزانہ نے اعتراف کیا کہ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق پیٹرول کی قیمت بڑھانی ہے، آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمت کم ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔