ایڈز کی روک تھام کے لیے ٹیکے کا استعمال

TWITTER IMAGE
Spread the love

امریکہ میں ایڈز کی روک تھام کے لیے ٹیکے کے استعمال کی منظوری،، یہ ایچ آئی وی کے خلاف دنیا کی پہلی انجیکشن ایبل دوا ہے۔
ایچ آئی وی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے دنیا کی پہلی انجکشن ایبل دوا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے منظوری دے دی ہے۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق منظور ہونے والے سسپنشن کا نام ایپریٹیوڈ ہے اور یہ ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے روزانہ کی گولیوں کا متبادل فراہم کرتا ہے۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے بیان کے مطابق ایپریٹیوڈ کے شروع میں محض دو شاٹس ملیں گے، ایک ماہ کے وقفے پر، اور پھر مریض ہر دو ماہ بعد ایک انجکشن لیں گے۔
ایف ڈی اے کے سینٹر فار ڈرگ ایویلیوایشن اینڈ ریسرچ میں ڈویژن آف اینٹی وائرلز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیبرا برنکرانٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انجیکشن، جو ہر دو ماہ بعد دیا جاتا ہے، امریکہ میں ایچ آئی وی کی وبا سے نمٹنے کے لیے اہم ہو گا، اس سے زیادہ خطرے والے افراد اور بعض گروہوں کی مدد بھی ہو گی جنکے لئے روزانہ دوائیوں پر عمل کرنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف ڈی اے کو امید ہے کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے طویل مدتی انجیکشن لگانے والی دوا کی دستیابی زیادہ خطرے والے گروپوں میں ایسی دوائیوں کے استعمال میں اضافہ کرے گی۔ پری ایکسپوزر پروفیلیکسس، یعنی ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے لی جانے والی دوائیں، امریکہ میں تقریباً 1.2 ملین لوگوں کے لیے تجویز کی جاتی ہیں، اور 2020 میں، ان میں سے تقریباً 25 فیصد افراد کو گولیاں دستیاب رہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ 2015 کے مقابلے میں صرف 3 فیصد سے زیادہ ہے، لیکن بہتری کے لیے کافی گنجائش باقی ہے۔
دو کلینیکل ٹرائلز کے نتائج کے مطابق ایپریٹیوڈ انفیکشن کے خطرے کو روزانہ کی گولی سے زیادہ مؤثر طریقے سے کم کرتا ہے۔ ٹرائلز اس قسم کے مطالعے کے لیے بنائے گئے اصول ‘گولڈ اسٹینڈرڈز’ پر پورا اترے، کیونکہ وہ بے ترتیب اور ڈبل بلائنڈ تھے، یعنی جن لوگوں کو اصل دوائی ملی تھی وہ تصادفی طور پر منتخب کیے گئے تھے اور نہ ہی ڈاکٹروں اور نہ ہی مریضوں کو معلوم تھا کہ پلیسبو پر اصل دوا کون لے رہا ہے۔
لائیو سائنس نامی تحقیقاتی جرنل کے مطابق پہلے ٹرائل میں تقریباً 4 ہزار 600 سسجینڈر مردوں اور ٹرانس جینڈر خواتین شامل تھیں جنہوں نے مردوں سے جنسی رکھا تھا۔ایپریٹیوڈ لینے والوں میں ایڈز سے متاثر ہونے کا خطرہ ان شرکاء کے مقابلے میں 69 فیصد کم تھا جنہوں نے روزانہ لینے والی گولیاں استعمال کیں۔
ایف ڈی اے کے مطابق دوسرے ٹرائل میں تقریباً 3 ہزار 200 سسجینڈر خواتین شامل تھیں جو ایچ آئی وی کے خطرے میں تھیں، پتہ چلا کہ جن لوگوں نے ایپریٹیوڈ کا استعمال کیا ان میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا خطرہ 90 فیصد کم تھا۔
ایپریٹیوڈ استعمال کرنے والے ٹرائل کے شرکاء کو گولیاں کھانے والے افراد کے مقابلے میں زیادہ سائیڈ ایفیکٹس کا سامنا کرنا پڑا، انہیں سر درد، بخار، تھکاوٹ، کمر میں درد، ، خارش اور انجیکشن کے رد عمل کا سامنا رہا۔
ایف ڈی اے کے مطابق ایپریٹیوڈ کو خطرے سے دوچار بالغوں اور کم از کم 77 پاؤنڈ (35 کلوگرام) وزنی نوجوانوں میں استعمال کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ مریضوں کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ انجیکشن شروع کرنے سے چار ہفتے پہلے روزانہ کیبوٹیگراویر، جسے ووکابریا کہتے ہیں، لے سکتے ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ ان پر نئی دوا کتنی مؤثر ہے۔ ایپریٹیوڈ شروع کرنے سے پہلے مریضوں کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ لازمی کرایا جانا چاہیے اور ان کے منفی ہونے کی تصدیق کرنی چاہیے اور ہر انجیکشن سے پہلے منفی کی تصدیق کی جانی چاہیے، تاکہ دوائیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ایچ آئی وی کے بننے کے خطرے سے بچا جا سکے۔ دوا بنانے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو ایپریٹیوڈ لینے کے بعد بھی دوائیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ایچ آئی وی ون کے بننے سے متاثر ہو جاتے ہیں انہیں ایچ آئی وی ون کے علاج کے مکمل طریقہ کار میں منتقل ہو جانا چاہیے۔ ایپریٹیوڈ کی قیمت3 ہزار 700 امریکی ڈالر فی خوراک ہے (سال کی چھ خوراکوں کی قیمت 22 ہزار 200 امریکی ڈالر ہے) اور توقع ہے کہ اگلے سال کے شروع میں امریکہ بھر کے ہول سیل ڈیلرز کو اس کی ترسیل شروع کر دی جائے گی۔ یاد رہے پاکستان کے صوبہ سندھ کا ضلع لاڑکانہ ایڈز سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے یہاں ایکٹو کیسز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

6 thoughts on “ایڈز کی روک تھام کے لیے ٹیکے کا استعمال

  1. […] ایڈورڈ سنوڈن نے اسی سال کے آخر میں این ایس اے کی امریکی انٹرنیٹ کمپنیوں کے ذریعے بلک ڈیٹا تک رسائی اور ٹیلی […]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔