اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) تاریخ کے آئینے میں ، مقاصد کیا تھے؟

oic social media image
Spread the love

اکیس اگست 1969 کو ایک سخت گیر آسٹریلوی مسیحی ڈینس مائیکل روہان نے یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے اندر خطبے کے لیے رکھے گئے صلاح الدین ایوبی کے دور کے800سال پرانے منبر کو آگ لگا دی، اس کے نتیجے میں مسجد کی قدیم عمارت کی چھت کو بھی نقصان پہنچا۔

دنیا بھر سے اسلامی ملکوں کی جانب سے اس واقعے پر غم و غصہ پایا گیا اور اس پر شدید ردعمل آیا ، فلسطین کے مفتی اعظم امین الحسینی نے اسے ’’جیوئش کرائم‘‘ قرار دیتے ہوئے مسلم ممالک سے اپیل کی کہ وہ ایک سربراہ اجلاس منعقد کریں اور ایسے واقعات کے سدباب کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

فلسطین کے مفتی اعظم کی اپیل پر مراکش کے شہر رباط میں 22سے 25ستمر1969 کو 24 مسلم اکثریتی ملکوں کے نمائندے جمع ہوئے جن میں سے زیادہ تر ان ممالک کے سربراہان شامل تھے۔

اجلاس کے آخری روز یعنی 25ستمبر 1969 کو ہونے والے مسلم ملکوں کے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اقتصادی ، سائنسی، ثقافتی اور روحانی شعبوں میں قریبی تعاون اور مدد کی راہ اختیار کرنے کے لیے مسلم حکومتیں آپس میں صلاح مشورہ کریں گی۔

مسلم ملکوں کی جانب سے منظور ہونے والی قرارداد اسلامی تعاون تنظیم کے قیام کا نقطہ آغاز تھی، اس کے 6 ماہ بعد سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی اور 1972 میں او آئی سی کا ایک باقاعدہ تنظیم کے طور پر قیام عمل میں لایا گیا جس کا ہر سال وزرائے خارجہ کا اجلاس اور ہر3سال بعد سربراہ اجلاس منعقد ہونا طے پایا۔

او آئی سی کے وقت25بانی رکن ممالک

انیس سو انسٹھ میں جب اسلامی تعاون تنظیم قائم ہوئی تو اس کے بنیادی ارکان میں 25 تھی ، ان میں افغانستان، پاکستان ، ایران ، الجزائر، چاڈ ، مصر ، جمہوریہ گنی، انڈو نیشیا ، اردن، کویت ، لبنان، لیبیا، ملائشیا، مالی ، ماریطانیہ، مراکش، نائیجیریا، ترکی ، فلسطین، یمن ، سعودی عرب، سینی گال، سوڈان ، صومالیہ اور تیونس شامل تھے۔

آج او آئی کے رکن ملکوں کی تعداد

او آئی کے رکن ممالک کی مجموعی تعداد57 ہے،اسلامی تعاون نتظیم کو پذیزائی ملی تو 1970 میں بحرین ، کویت ،اومان ، قطر، شام ، متحدہ عرب امارات ، 1972 میں سیرالیون اسلامی تعاون تنظیم کے رکن بنے ،1974 میں بنگلہ دیش گیمبون ، گیمبیا، گنی بساؤ، یو گنڈا، 1975 میں بر کینا فاسو، کیمرون، 1976 میں جزائر قمر، عراق، مالدیپ، جبوتی، 1982 میں بینن او آئی سی کی رکنیت حاصل کی، 1984 میں بر ونائی، 1986 میں نائجیریا ، 1991 میں کر غزستان ، تاجکستان ، البانیہ، ترکمانستان موزمبیق، 1995 میں قازقستان ، ازبکستان، 1996 میں سورینام، 1997 میں ٹوگو، 1998 میں گیانا، 2001 آئیوری کوسٹ او آئی سی کے رکن بن گئے۔

او آئی سی کے مبصر ممالک

 مبصر ممالک میں بوسینیا ہرزیگونیا ، 1994 میں وسطیٰ افریقہ 1997 ء میں ترک قبرص 1979 میں تھائی لینڈ، 1998 میں اور روس 2005 ء میںا سلامی تعاون تنظیم کا مبصر بنا، بھارت بارہا او آئی سی میں رکنیت اور مبصر کے لیے درخواست کر چکا ہے، اس کی شدید مخالفت پاکستان نے ہمیشہ کشمیر میں مسلم اکثریت پر ظلم و جبر اور اِن کو اقوم متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قراردادوں کے مطابق آزادی نہ دینے کی بنیادوں پرکی ہے۔

او آئی سی میں شامل ملکوں کا رقبہ

اوآئی سی میں شامل ملکوں کا کل رقبہ 3 کروڑ 16 لاکھ 60 ہزار مربع کلو میٹر ہے اور آبادی تقریباً ایک ارب 88 کروڑ ہے ، اِن کا مجموعی جی ڈی پی افراد قوت خرید کے اعتبار سے 27.949 ٹریلین ڈالر اور فی کس سالانہ آمدن 9361 ڈالر ہے ، اگر اِن ملکوں میں اتحاد اور تعاون بڑھ جائے تو یہ جی ڈی پی اور فی کس آمدن تھوڑے عرصے میں چار گنا بڑھ جائے اور یہ بلاک دنیا میں اقتصادی ، معاشی ، سیاسی اور عسکری اعتبار سے دنیا کا ایک مضبوط ترین بلاک بن جائے گا۔

اس کے مقابلے میں یورپی یونین کے 27 ممالک کا رقبہ 42لاکھ33ہزار225 مربع کلومیٹر جبکہ آبادی 447 ملین یعنی 44 کروڑ 70 لاکھ  ہےاور جی ڈی پی 19.397 ٹریلین ڈالر اور فی کس سالانہ آمدن 43615 ڈالر ہے، یوں فی کس سالانہ آمدن کے علاوہ اب بھی یورپی یونین سے اسلامی تعاون تنظیم آگے ہے۔

سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہنے والی شخصیات

او آئی سی کا صدر دفتر سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہے ، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل پر سب سے پہلے ملائیشیا کے تنکو عبدالرحمن 1971 ء سے 1973ء تک فائز رہے ، اس کے بعد دوسرے نمبر پر مصر کے حسن التہومی 1974 سے 75 تک سیکرٹری جنرل رہے۔ سینی گال کے ڈاکٹر مادو کریم گائے تیسری شخصیت تھیں جنھوں نے 1975 سے 1979 نے بطور سیکرٹری جنرل او آئی سی کی ذمہ داریاں نبھائیں ۔چوتھے تیونس کے حبیب شیتی تھے جو 1979 سے 1984 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ پانچواں نمبر پاکستان کے شریف الدین پیر زادہ کا ہے جو 1984 سے1989  تک عہدے پر رہ چکے ہیں۔ چھٹے نمبر پر نائجیریا کے ڈاکٹر حامد الغابد 1989سے1996  تک فائرز رہے ، ساتویں نمبر پر مراکش کے ڈاکٹر عزالدین لراکی 1997 سے2000 رہے جبکہ آٹھویں نمبر پر مراکش ہی کے ڈاکٹر عبد لاحد بلکغریر ہیں جو 2001 سے 2004 او آئی سی کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ نویں نمبر پر  ترکی کے ڈاکٹر اکمل الدین احسان اوغلو کا نام آتا ہے جو 2004 سے 2014 سب سے زیادہ عرصہ کے لیے سیکرٹری جنرل او آئی سی رہ چکے ہیں۔ سعودی عرب کے عیاد بن امین مدنی 2014 سے2016 تک رہے  ، دسویں نمبر پر سعودی عرب ہی کے یوسف الوتایمین 2016سے2021تک سیکرٹری جنرل رہے ،اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل رہے۔

افریقی ملک چاڈ (تشاد) سے تعلق رکھنے والے حسین ابراہیم کو ہفتے کے روز نیجر کے دارالحکومت نیامے میں اوآئی سی کے وزرائے خارجہ پر مشتمل کونسل کے 47ویں اجلاس میں اتفاق رائے سے تنظیم کا نیا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ۔اور وہ اوآئی کے گیارہویں سیکرٹری جنرل ہیں۔

چوتھی عرب اسرائیل جنگ 1973 ء میں ہوئی، اس جنگ میں عرب لیگ سے کہیں زیادہ اہم کردار اسلامی تعاون تنظیم ادا کیا اور پاکستان سمیت بہت سے ملکوں نے فوجی اعتبار سے در پردہ اور سیاسی خارجی محاذوں پر خصوصاً اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اعلانیہ فلسطینیوں اور عربوں کی بھر پو ر حمایت کی۔ 1974 میں پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کئے جانے کے بعد چین نے اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کی رکنیت پر اعتراضات واپس لے لیے اور بنگلہ دیش اُس وقت آبادی کے اعتبار سے انڈو نیشیا کے بعد دوسرے بڑے اسلامی ملک کی حیثیت سے اسلامی تعاون تنظیم کا رکن بن گیا۔

اسی سال یعینی1974میں اسلامی تعاون تنظیم دوسر ی اسلامی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی، یہ اسلامی کانفرنس جنگِ عظیم اوّل اور خلافتِ عثمانیہ کے اختتام کے76 سال بعد اور جنگ عظیم دوئم کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی تشکیل کے 29 سال بعد منعقد ہوئی تھی، اس کانفرنس میں سعودی عرب کے شاہ فیصل اور لیبیا کے انقلابی رہنما کرنل معمر قد افی سمیت عرب دنیا بلکہ عالمِ اسلام میں آپس میں نظریاتی تضاد رکھنے والے رکن ملکوں کے بہت سے رہنما شریک ہوئے تھے، اس کو کامیاب ترین کانفرنس قرار دیا گیا جب کہ اس کے بعد او آئی کی سربراہ کانفرنسیں قواعد کے مطابق ہر3سال بعد تواتر سے منعقد ہوتی رہیں، یوں یہ باقاعدہ اجلاس سعودی عرب ، مراکش ، ترکی میں2،2بار جبکہ کویت ، سینی گال، مراکش، تہران ، قطر،ملائیشیا،مصرمیں ایک ایک بار ہو چکے ہیں ۔ اس قاعدے کے مطابق آخری اسلامی کانفرنس 31 مئی 2019 ء کو سعودی عرب کے شہر مکہ معظمہ میں منعقد ہوئی۔

اوآئی سی کے مجموعی وزرائے خارجہ اجلاس

او آئی سی کے قیام سے اب تک اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 47 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں پاکستان 1970 ، 1980، 1993، 2007 اور2021میں وزرائے خارجہ کونسل کے 5 اجلاسوں کی میزبانی کر چکا ہے،،وزرائے خارجہ کونسل کے 16 غیرمعمولی اجلاس ہو چکے ہیں اور 19 دسمبر کو پاکستان 17 ویں غیرمعمولی اجلاس کی میزبانی میں ہو رہاہے،پاکستان نے اس سے قبل افغانستان پر 1980 میں اوُآئی سی کے غیرمعمولی اجلاس کی میزبانی پاکستان نے کی تھی

او آئی سی کی 14اسلامی کانفرنس منعقد ہوئیں

انیس سوانسٹھ سے 2019 ء تک 14 اسلامی سربراہ کانفرنسز منعقد ہوچکی ہیں، اسلامی تعاون تنظیم دنیا بھر کے اسلامی ملکوں کے آپس میں تعاون اور ایک دوسرے کی امداد کے بنیادی نظریے پر قائم ہوئی تھی اور اس حوالے سے  و آئی سی کے قواعد کے مطابق اس کے سربراہ اجلاس 3 سال بعد ہوتے ہیں ، اِن اجلاس میں طے شدہ پالیسیوں اور منصوبوں پر کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے رکن ملکوں کے وزراء خارجہ کے سالانہ اجلاس ہوتے ہیں

او آئی سی کی قائمہ کمیٹیاں

اسلامی تعاون تنظیم کی5 قائمہ کمیٹیاں ہیں جو طے پالیسیوں اور منصوبوں پر عملدر آمد کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ ایک اطلاعات و ثقافتی معاملات کی قائمہ کمیٹی ،دوسری اقتصادی وتجارتی معاملات، تیسری سائنس و ٹیکنا لوجی تعاون قائمہ کمیٹی، چوتھی اسلامی کمیٹی برائے اقتصادی ،ثقافتی و سماجی معاملات، پانچویں مستقل تجارتی کمیٹی  ہیں۔

او آئی سی کے بازو

 او آئی سی کے وینگ یا بازو میں پہلے نمبر پر شماریاتی، اقتصادی ، سماجی ، تحقیقی اور تربیتی مرکز برائے اسلامی ممالک ، دوسر نمبر پر اسلامی تاریخ ، فن اور ثقافتی تحقیقی مرکز کے دفاتر انقرہ اور استنبول ترکی میں ہیں۔ تیسرے نمبر پر جامعہ اسلامی برائے ٹیکنالوجی ڈھاکہ بنگلہ دیش میں جبکہ چوتھی اسلامی مر کز برائے تجارت کاسابلانکا مراکش میں ہے، پانچویں اسلامی فقہ اکیڈمی اورچھٹی اسلامی سولیڈیرٹی فنڈ کا رایگزیکٹو بیور اور وقف جدہ سعودی عرب میں ،ساتویں جامعہ اسلامی نائجیریا میں جبکہ آٹھویں جامعہ اسلامی ایمبا کے یوگنڈامیں ہے۔

او آئی سی کے ملحقہ ادارے

اسلامی تعاون تنظیم کے  ملحقہ ادارے بھی ہیں جن میں اسلامی ایوان ہائے صنعت و تجارت کراچی پاکستان میں دوسرے نمبر پر اسلامی دارالحکومتوں اور شہروں کی تنظیم جدہ سعودی عرب میں ہے۔ تیسرے نمبر پر اسلامی سو لیڈرٹی گیمز کے لیے اسپورٹس فیڈ ریشن ریاض سعودی عرب میں چوتھے نمبر پراسلامی کمیٹی برائے بین الاقوامی(آئی سی سی آئی) ہلال بن غازی لیبیا میں ، پانچویں نمبر پر بین الا قوامی عرب اسلامی اسکولوں کی فیڈریشن جدہ سعودی عرب میں ہے چھٹے نمبرپر بین الاقوامی تنظیم برائے اسلامی بنک(آئی اے بی آئی)جدہ سعودی عرب میں ، ساتویں نمبر پراسلامی کانفرنس فورم نوجوانان برائے مذاکرات و تعاون استنبول ترکی میں ہے۔

چوہترکی لاہور اوآئی سی کانفرنس کی پر دنیا میں ہلچل

اگر چہ پاکستان میں سوویت یونین کے لحاظ سے یہ صورتحال سوویت یونین کے لیے بہتر تھی لیکن مجموعی طور پر او آئی سی کی لاہور میں منعقد ہونے والے کامیاب اسلامی کانفرنس امریکہ اور سوویت یونین دونوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ سوویت یونین پریہ حقیقت روز اوّل سے عیاں تھی کہ مصر ، شام ، عراق، وغیرہ جیسے مسلم اکثریتی ملکوں میں فوجی انقلابات کی بنیادی پر سوویت نواز حکومتیں تو قائم ہو گئی تھیں اور اِن کا نظام ِ حکومت بھی آمریتوں کے ساتھ قدرے سوشلسٹ ہو گیا تھا لیکن دنیا میں کہیں بھی کسی مسلم ملک میں پولینڈ ، ہنگری، چیکوسلواکیہ جیسا کیمونسٹ لادینی نظام نہیں آسکا تھا ، پھر سوویت یونین کی وسطیٰ ایشیا کی مسلم اکثریت کی ریاستیں ، آذربائیجان ، ازبکستان، کرغزستان ، قازقستان، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمنستان ایسی ریاستیں تھیں جن پر زار شاہی روس کے زمانے میں 1839 سے اُس وقت روسی قبضہ مستحکم ہوا تھا جب پہلی اینگلو افغان جنگ ہوئی تھی اور پھر دوسری اور تیسری برطانوی افغان جنگ کے دوران تو روس نے یہاں مسلمانوں کے مذہبی حقوق بھی سلب کر دیئے تھے۔

انیس سو سترہ کے اشترکی انقلاب کے دو سال بعد 1919 میں تیسری اینگلو افغان جنگ ہوئی تھی جس کے بعد افغانستان کے باد شاہ غازی امان اللہ خان نے برطانیہ کی جانب سے 1878 سے دی جانے والی سبسڈی کی بھاری رقم سے انکار کے بعد افغانستان کی دفاعی اور خارجہ پا لیسی کو آزاد اور متوازن کر لیا تھا بعد میں غازی امان اللہ خان نے سوویت یونین کا دورہ بھی کیا تھا پھر سوویت یونین نے افغانستان کو لڑاکا طیاروں سمیت جدید اسلحہ کے ساتھ افغان فوجیوں کی ٹریننگ بھی دی تھی ۔

انیس سو تہتر میں افغانستان میں ظاہر شاہ کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے سردار داؤد صدر ہو گئے تھے، 1974 میں کامیاب اسلامی کانفرنس کے کچھ عرصے بعد سردار داؤد کا جھکاؤ بھی اس جانب ہو نے لگا اور غالباً یہی وجہ تھی کہ 1978 میں سوویت یونین کی پشت پناہی سے افغانستان میں سردار داؤد کو قتل کر کے وہاں کیمونسٹ حکومت قائم کی گئی جس کے سربراہ صدر نور محمد تراکئی ہوئے یعنی سوویت یونین نے خود کو اسلامی قوت کی بنیاد پر بچانے اور سنٹرل ایشیا کی مسلم ریاستوں میں ممکنہ اسلامی تحریک کو افغانستان کو ڈھال بنا کر روکنے کی اسٹر ٹیجی اپنائی۔

اوآئی سی کے سربراہان کی ناگہانی اموات کا قصہ

دوسری جانب امریکہ کے اتحادی بلاک نے اپنی جانب سے پہلے اسلامی ملکوں اُس قیادت کو ہٹانے کا منصوبہ بنایا جن کی وجہ سے لاہور کی اسلامی کا نفرنس کا میاب ہوئی تھی اور اس کے بعد طے شدہ احداف کامیابی سے حاصل کئے جا رہے تھے امریکہ ،برطانیہ اور اِن کے اتحادیوں کو اس میں اِس لیے جلد کامیابی حاصل ہوئی کہ بیشتر اسلامی ملکوں میں خصوصاً جہاں بادشاہتیں ، آمریتیں یا نیم جمہوری حکومتیں تھیں یہاں کی اہم شخصیات پہلے ہی سوویت یونین کی اشتراکیت سے خائف تھیں وہ امریکہ اور برطانیہ کی مدد گار ثابت ہوئیں ،اس پورے تناظر میں او آئی سی کا کردار اُس وقت بہت بدل گیا جب سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل کو قتل کر دیا گیا اور پاکستان کے وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

1979 ء میں ایران میں امام خمینی کا اسلامی انقلاب آگیا یوں افغانستان ، ایران ، پاکستان اور پھر کچھ عرصے بعد عراق میں بھی جنگوں کی سی صورتحال پیدا ہو گئی افغانستان میں روسی فوجی مداخلت سے افغانستان جنگ کا میدان بنا تو پاکستان فرنٹ لائن کا ملک بن گیا، ایک سال بعد یعنی 1980 ء میں ایران ، عراق جنگ شروع ہو گئی اس پورے تناظر میں اسلامی تعاون تنظیم کی لیڈر شپ بھی تبدیل ہوئی اور اُس کا انداز بھی بدل گیا ۔

او آئی سی جو حقیقت میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانیہ اور مغربی اتحاد کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف اقوام متحدہ کی بنیاد پر ناانصافی اور زیادتی کے ردعمل میں قائم ہوئی تھی مگر اب افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی مداخلت پر اسلامی ممالک سوویت یونین کے خلاف تھے، پھر ایران عراق جنگ کی بنیاد پر عالم اسلام میں فرقہ واریت پر اختلافات پیدا ہو گئے ، پھر 1990ء میں صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کر کے مشرق وسطیٰ میں فوجی مداخلت کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جواز فراہم کر دیا، 1990 ء میں سابق سوویت یونین بکھر گئی اور روس خود تاریخ کے بڑے اقتصادی سیاسی بحران کا شکار ہو گیا،سرد جنگ اور دنیا میں اشتراکیت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے دنیا کو نیو ورلڈ آرڈر اور گلوبل ولیج جیسے تصورات کی بنیاد پر پالیسیاں اور منصوبے دئیے تو ہمارے خطے میں بھی اب پا کستان کی بجائے بھارت امریکہ کا اسٹریجیکل پارٹنر بننے لگا۔

امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے لانے کے لیے پینترے بدلنے لگا، بھارت کی جمہوریت میں سیکولرازم کی بجائے ہندو دھرم پرستی، شدت اور انتہا پرستی متعارف ہونے لگی اور نوے کی دہا ئی ہی میں بابری مسجد کو مسمار کر کے اُس کی جگہ رام مندر بنانے کے ساتھ بھارت میں ہندو دھرم کے شدت پسندانہ رجحان میں اضافہ ہونے لگا، نائین الیوان کے واقعہ کے بعد پوری دنیا میں مسلم ممالک ہی دہشت گردی کے مجرم ٹھہرے اور اس کا مرکز اُسی افغانستان کو بنایا گیا جہاں سے امریکہ نے افغان مجاہدین کی مدد سے سوویت یونین اور اشتراکیت کو دنیا میں شکست دی تھی، اس دوران او آئی سی نے بس سابق سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں فوجی مداخلت کے خلاف آواز بلند کی جب کہ نائین الیون کے بعد سے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے چاہا ویسے ہی اوآئی سی نے عمل کیا۔

2014 ء سے خصوصاً اوآئی سی پر عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب ، کویت، عمان، بحرین ، قطر اور عرب امارات کا کنٹرول رہا، اس دوران عرب دنیا میں عراق ، شام ، لیبیا ، شدید نوعیت کی خانہ جنگیوں کا شکار ہوئے ۔افغانستان مستقل جنگ کا میدان بنا رہا اور پاکستان میں ہر طرح سے مداخلت کی گئی۔ 2016 ء سے امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دور شروع ہوا تو اُس نے اقوام متحدہ کے سامنے 73 برسوں سے رکھے گئے دنیا کے دو بڑے مسئلے یعنی کشمیر اور فلسطین کو طاقت کے زور پر نا انصافی سے حل کرنے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی، اس دوران امر یکہ نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کر دیا، اس کے تھوڑے عر صے بعد ہی عرب امار ات ، بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، باقی عرب ممالک کے تعلقات بھی اسرائیل سے قائم ہیں اور اسرائیلی حکمران اِن ملکوں کے دورے بھی کر رہے ہیں اسی طرح 2019 ء سے بھارت کا رویہ بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے انتہائی شدت پسندانہ ہے۔

370 آرٹیکل کو بھارتی آئین سے ختم کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کو نہ صرف بھارت کا صوبہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ دفعہ 35 کو ختم کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے ، تقریباً سوا سال سے مقبوضہ بھارتی جموں وکشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور علاقے میں بد ترین انداز سے انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے ، بدقسمتی سے پا کستان نے اس دوران جب بھی اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے اس صورتحال پر آواز بلند کر نے کے لیے کوشش کی تو عرب ممالک نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو اہمیت نہیں دی گئی اس وقت خصوصاً عرب ممالک کے تعلقات امریکی حمایت کی وجہ سے بھارت سے زیادہ بہتر ہیں۔

اب جب کہ پاکستان کے مفادات چین سے وابستہ ہو چکے اور بھارت مکمل طور پر امریکہ اور برطانیہ پر انحصار کر رہا ہے تو دنیا پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ اب یا تو او آئی سی کی قیادت تبدیل ہو کر حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کر ے گی یا او آئی سی کے مقابلے میں ایک نیا اسلامی اتحاد سامنے آئے گا اور اگر ایسا نیا اتحاد قائم ہوتا ہے تو اس میں تیل پیدا کر نے والے بیشتر اسلامی ممالک شامل نہیں ہونگے، لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ 2014 ء کے بعد سے او آئی سی مکمل طور پر اپنے مقاصد سے ہٹ کر بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

اوآئی سی کے چارٹر اور رہنما اصولوں میں ہونے والی تبدیلیاں

انیس سو نوے میں سرد جنگ کے فوراً بعد او آئی سی نے اپنے چارٹر اور رہنما اصولوں میں وقت کے مطابق کچھ تبدیلیاں بھی کیں۔ مصر قاہرہ اعلامیہ کے مطابق انسانی حقوق کے حوالے سے قرآن و شریعت کی بنیاد پر اپنایا گیا، مارچ 2008 کو چارٹر کا دو بارہ جائز ہ لیا گیا جس میں انسانی حقوق ، بنیادی انسانی آزادی اور حقوق ، رکن ملکوں میں اچھی حکمرانی پر زور دیتے ہو ئے اقوام متحدہ کے چارٹر اور یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن راٹس کو بھی رہنما بنایا گیا ، مگر ان تمام باتوں کے باوجود یواین ایچ سی آر کے مطابق او ائی سی کے رکن ممالک میں مہاجرین کی تعداد ایک کروڑ 86 لاکھ تھی، 2012 سے شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے مزید 49 لاکھ مہا جر ہوئے ہیں ، مگر ہنوز او آئی سی کے 57 رکن ممالک کی ایک ارب 80 کروڑ آبادی کے مستقبل کو شدید انداز کے اند یشے لاحق ہیں ۔

او آئی سی کے چارٹر میں کہا گیا ہے کہ ’اسلامی، اقتصادی اقدار کا تحفظ، آپس میں یکجہتی کا فروغ، سماجی، اقتصادی، ثقافتی، سائنسی اور سیاسی شعبوں میں تعاون کو فروغ، عالمی امن و سلامتی کے قیام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم خاص طور پر سائس و ٹیکنالوجی کو فروغ دی جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔